فهرس الكتاب

الصفحة 132 من 5761

کتاب: وضو کا طریقہ

ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنا(مستحب ہے)

132 أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيَّوبَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ الْخَلَاءِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فَقَالُوا أَلَا نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ فَقَالَ إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلا سے باہر تشریف لائے اور آپ کو کھانا پیش کیا گیا۔ صحابہ نے پوچھا کہ ہم آپ کے لیے وضو کا پانی نہ لائیں؟ آپ نے فرمایا ''مجھے وضو کا حکم صرف اس وقت ہے جب میں نماز کے لیے اٹھوں۔''

(۱) نماز کے وقت وضو کا حکم بھی تب ہے اگر وہ بے وضو ہو یا اسے حکم استحباب پر محمول کیا جائے گا۔ (۲) اگر ہاتھ صاف ہوں تو کھانے کے وقت دوبارہ دھونے کا اہتمام ضروری نہیں، بہتر ہے۔ (۳) ہر وقت باوضو رہنا مستحب ہے مگر واجب نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت