فهرس الكتاب

الصفحة 1355 من 5761

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل

ایک اور قسم کی دعا

1355 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَبَّحَ فِي دُبُرِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ وَهَلَّلَ مِائَةَ تَهْلِيلَةٍ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص صبح کی نماز کے بعد سو دفعہ سبحان اللہ اور سو دفعہ لا إلہ إلا اللہ پڑھے، اس کے سب گناہ معاف ہو جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کےبرابر ہوں۔''

(۱) مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سندًا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسےصحیح قرار دیا ہے، نیز شارح سنن النسائی نے اس پر تفصیلی کلام کرتے ہوئے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ان کے کلام سے یہی بات راجح معلوم ہوتی ہے کہ مذکورہ روایت صحیح اور قابل حجت ہے۔ واللہ أعلم۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (صحیح سنن النسائي: ۳۴۵/۵، رقم: ۱۳۵۳، و ذخیرۃ العقبی شرح سنن النسائي: ۴۲۶،۴۲۵/۱۵) (۲) یہ رب کریم کا کرم ہے کہ چھوٹے سے کام پر عظیم جزا سےسرفراز فرماتا ہے۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ عظیم خوشخبری اس شخص کے لیے ہے جو اس عمل پر ہمیشگی کرتا ہے اور اس پر ہمیشگی خوش بخت مومن ہی کرسکتا ہے۔ اللھم! اجعلنا منھم۔ (۳) سمندر کی جھاگ کنایہ ہے بے انتہا سے۔ ہمارے علم کے لحاظ سے سمندر کی جھاگ بے انتہا ہی ہے۔ اسے کثرت بھی کہا جا سکتا ہے۔ واللہ أعلم۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت