1361 أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ الْأَسْوَدِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا يَرَى أَنَّ حَتْمًا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ انْصِرَافِهِ عَنْ يَسَارِهِ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے آپ پر شیطان کا حصہ نہ رکھے کہ وہ اپنے آپ پر ضروری قرار دے کہ صرف دائیں جانب ہی سے مڑے گا۔ بلاشبہ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر بائیں جانب سے مڑتے دیکھا ہے۔
''اپنے آپ پر شیطان کا حصہ نہ رکھے۔'' یعنی غیرواجب کو خود ہی واجب کر لینا شریعت میں مداخلت ہے، شیطان کی پیروی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی مخالفت ہے۔ گویا دائیں جانب سے مڑنے کو ضروری سمجھنا درست نہیں۔ ہاں، اگر کوئی دونوں جانب سے مڑنے کو جائز سمجھ کر دائیں جانب کو ترجیح دے تو کوئی حرج نہیں۔