فهرس الكتاب

الصفحة 1429 من 5761

کتاب: جمعۃ المبارک سے متعلق احکام و مسائل

جمعے کے بعد امام کتنی رکعت(سنت)پڑھے؟

1429 أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے بعد اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

یہ ایک اور تطبیق ہے جو امام نسائی رحمہ اللہ نے ان دو روایات (چار رکعت اور دو رکعت والی) میں اختیار کی ہے کہ چار پڑھنے کا حکم مقتدیوں کو ہے۔ دیکھیے: (صحیح مسلم، الجمعۃ، حدیث: ۸۸۱) اور دو رکعت پڑھنے کا ذکر آپ کے ساتھ خاص ہے۔ گویا امام دو رکعت پڑھے اور مقتدی چار رکعت پڑھیں۔ لیکن امام صاحب کا یہ استدلال محل نظر ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فرمان ہمارے لیے اسوۂ اور نمونہ ہے، اس لیے دو رکعات آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ خاص نہیں، لہٰذا دو بھی پڑھی جا سکتی ہیں اور چار بھی، کسی حدیث پر بھی عمل کر لیا جائے۔ واللہ أعلم۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت