فهرس الكتاب

الصفحة 1455 من 5761

کتاب: سفر میں نماز قصر کرنے کے متعلق احکام و مسائل

کتنی دیر تک ٹھہرےتو قصر کر سکتا ہے؟

1455 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْكُثُ الْمُهَاجِرُ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ ثَلَاثًا

حضرت علا ء بن حضرمی ؓ سے منقول ہے،

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"مہاجر شخص اپنا حج و عمرہ پورا"

کرنے کے بعد صرف تین دن مکے میں رہ سکتا ہے۔""

یہ حدیث ائمہ ثلا ثہ ( امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد رحمتہ اللہ علیہ ) کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ نے مہاجرین کوتین دن سے زائد مکہ میں ٹھہرنے سے اسی لیے روکا ہے کہ اگر ان میں سے کو ئی تین دن سے زائد ٹھہر تا تو وہ مقیم بن جاتا اور مہاجر کو اپنی ہجرت والی جگہ مین مقیم ہونا جائز نہیں ، ورنہ ہجر ت ختم ہوجائے گی ۔ اس سے ثابت ہو ا کہ کسی جگہ میں تین دن تک ٹھہرنے والا تو مسا فر ہے مگر زائد ٹھہرنے والا مقیم ہے ، لٰہذا وہ نماز پور ی پر ھے گا ۔ باقی ر اہ رسو ل اللہ ﷺ کا مکہ میں فتح پر تین دن سے زائد ٹھہرنا تو ہ فتح کی تکمیل کے لیے تھا نہ ، نہ کہ زائد ازشرعی ضروریات یا وہ قصد ، یعنی تر دو کی صورت میں تھا ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت