فهرس الكتاب

الصفحة 1488 من 5761

کتاب: گرھن کے متعلق احکام و مسائل

1488 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ قَبِيصَةَ الْهِلَالِيِّ أَنَّ الشَّمْسَ انْخَسَفَتْ فَصَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى انْجَلَتْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِهِ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ فِي خَلْقِهِ مَا شَاءَ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَجَلَّى لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ يَخْشَعُ لَهُ فَأَيُّهُمَا حَدَثَ فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ أَوْ يُحْدِثَ اللَّهُ أَمْرًا

حضرت قبیصہ ہلالی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ سورج گہنا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں حتی کہ سورج روشن ہوگیا، پھر آپ نے فرمایا: ''بلاشبہ سورج اور چاند کسی کی موت کی بنا پر نہیں گہناتے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے دو مخلوق ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جو چاہے تبدیلی لاتا ہے اور اللہ تعالی جب اپنی کسی مخلوق پر تجلی فرماتا ہے تو وہ فورًا اس کی اطاعت کرتی ہے۔ تو جب ان دونوں میں سے کسی میں کوئی تبدیلی واقع ہو (سورج یا چاند کو گرہن لگے) تو نماز پڑھو حتی کہ وہ روشن ہوجائے یا اللہ تعالیٰ کوئی اور امر صادر فرمادے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت