1515 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ عَنْ آبِي اللَّحْمِ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ يَسْتَسْقِي وَهُوَ مُقْنِعٌ بِكَفَّيْهِ يَدْعُو
حضرت آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے رویات ہے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو احجارالزیت کے مقام پر بارش کی دعا کرتے دیکھا۔ آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے اور دعا فرما رہے تھے۔
(۱) آبی اللحم نام نہیں لقب ہے کیونکہ یہ جاہلیت میں بتوں کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کا گوشت نہیں کھاتے تھے۔ ان کے نام کی بابت اختلاف ہے۔ بعض نے عبداللہ بن عبدالملک، بعض نے خلف اور حویرث بتایا ہے۔ جنگ صفین میں شہید ہوئے۔ رضی اللہ عنہ۔ (۲) احجار الزیت مدینہ منورہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے کیونکہ وہاں پتھر سیاہ چمکدار تھے جیسے انھیں تیل ملاگیا ہو۔