فهرس الكتاب

الصفحة 1543 من 5761

کتاب: نماز کے خوف سے متعلق احکام و مسائل

نماز خوف سے متعلق احکام ومسائل

1543 أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ فَصَلَّى بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ذَهَبُوا وَجَاءَ الْآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ قَضَتْ الطَّائِفَتَانِ رَكْعَةً رَكْعَةً

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جنگ کے دنوں میں نمازخوف پڑھائی تو ایک گروہ آپ کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابل کھڑا رہا۔ آپ نے اپنے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھا دی، پھر وہ چلے گئے اور دوسرے آگئے۔ آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھا دی، پھر دونوں گروہوں نے ایک ایک رکعت اپنے طور پر پڑھ لی۔

ان احادیث میں نماز کے دوران میں آنا جانا، دشمن کے مقابل کھڑا ہونا، خواہ منہ کسی طرف بھی کرنا پڑے، اسی طرح امام کا ٹھہرنا اور آنے جانے والوں کا انتظار کرنا یہ سب نماز خوف کی خصوصیات ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور کرم نوازی ہے، ان سے نماز کی حیثیت اور ثواب میں کوئی کمی نہیں آئے گی بلکہ ممکن ہے نماز کی شان بڑھ جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت