فهرس الكتاب

الصفحة 1601 من 5761

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل

نفل نمازگھر میں پڑھنے کی تر غیب اور اس کی فضیلت

1601 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْفِطْرِيُّ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ فِي مَسْجِدِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَلَمَّا صَلَّى قَامَ نَاسٌ يَتَنَفَّلُونَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الصَّلَاةِ فِي الْبُيُوتِ

حضرت کعب بن حجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دفعہ) مغرب کی نماز بنوعبدالاشہل کی مسجد میں پڑھی۔ جب آپ نماز (فرض) سے فارغ ہوئے تو کچھ لوگ اٹھ کر نوافل (مغرب کی سنتیں) پڑھنے لگے۔ آپ نے فرمایا: ''یہ نماز گھروں میں پڑھا کرو۔''

یہ ''نماز'' یعنی مغرب کی سنتیں یا مطلقًا سنتیں اور نافل۔ یہ امر استحباب کے لیے ہے، نہ کہ وجوب کے لیے کیونکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مغرب کے بعد نوافل مسجد میں پڑھنا ثابت ہے۔ دیکھیے: (سنن ابی داود، التطوع، حدیث:۱۳۰۱) آج کل زندگی اس قدر تیز اور مصروف ہوگئی ہے کہ فرضوں کے بعد والی سنتیں رہ جانے کا خطرہ ہے جو ایک قبیح باب ہے اگر ایسی ہو تو سنن رواتب فرض نماز کے بعد مسجد ہی میں ادا کرلینی چاہییں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت