1629 أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِيهِ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ يَعْلَى بْنَ مَمْلَكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّي الْعَتَمَةَ ثُمَّ يُسَبِّحُ ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَرْقُدُ مِثْلَ مَا صَلَّى ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ مِنْ نَوْمِهِ ذَلِكَ فَيُصَلِّي مِثْلَ مَا نَامَ وَصَلَاتُهُ تِلْكَ الْآخِرَةُ تَكُونُ إِلَى الصُّبْحِ
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت یعلی بن مملک نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: آپ عشاء کی نماز پڑھتے تھے پھر سنتیں پڑھتے تھے، پھر اس کے بعد جتنی رات تک اللہ چاہتا آپ نماز پڑھا کرتے، پھر سورہتے اتنی دیر تک جتنی دیر نماز پڑھی تھی۔ پھر جاگتے اور نماز پڑھتے اتنی دیر تک جتنی دیر تک سوئے اور یہ اخیر کی نماز فجر تک ہوتی۔
یعنی آپ رات کو سوتے بھی اور نماز بھی پڑھتے۔ نہ ساری رات جاگتے نہ ساری رات سوتے۔