فهرس الكتاب
1650 أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى جَالِسًا حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ فَكَانَ يُصَلِّي وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ فَإِذَا غَبَرَ مِنْ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ بِهَا ثُمَّ رَكَعَ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے نہیں دیکھا حتی کہ آپ بڑھاپے میں داخل ہوگئے، پھر آپ بیٹھ کر نماز شروع فرماتے اور قراءت کرتے۔ جب اس سورت کی تیس چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہوکر انھیں پڑھتے، پھر رکوع فرماتے۔
بعض کا قول ہے کہ ان دو روایات میں جو طریقہ بیان کیا گیا ہے، وہ بڑھاپے کے دور کا ہے جیسا کہ دوسری حدیث میں صراحت ہے۔ پہلی دواحادیث میں بڑھاپے سے قبل کا طریقہ بیان کیا گیا ہے، لہٰذا یہ حقیقتًا اختلاف نہیں اگرچہ ظاہرًا اختلاف ہے، نیز اسے تعدد احوال پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کھڑے ہوکر اور کبھی بیٹھ کر نماز پڑھ لیتے تھے۔ اس طرح دونوں قسم کی احادیث میں ظاہری تعارض رفع ہوجاتا ہے۔