فهرس الكتاب

الصفحة 1699 من 5761

کتاب: رات کے قیام اور دن کی نفلی نماز کے متعلق احکام و مسائل

تین وتر کیسے پڑھے جائیں

1699 أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُسَلِّمُ فِي رَكْعَتَيْ الْوِتْرِ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے۔

مذکورہ روایت سندًا ضعیف ہے، نیز شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے شاذ قرار دیا ہے جبکہ علامہ ایتوبی رحمہ اللہ (شارح سنن نسائی) نے امام محمد بن نصر رحمہ اللہ سے درج ذیل مطلب نقل کرکے اس کی تحسین کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دورکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرتے بلکہ سات یا نورکعات کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے، تین رکعات کے بعد پھیرتے تھے، یہ ثابت نہیں بلکہ اس کے خلاف ثابت ہے۔ شارح نسائی علامہ ایتوبی رحمہ اللہ نے امام محمد بن نصر مروزی سے یہ مطلب نقل کرکے اس کی تحسین کی ہے۔ دیکھیے: (ذخیرۃ العقبٰی، شرح سنن النسائی: ۱۸؍۶۳، ۶۴، وارواء الغلیل، رقم:۴۲۱)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت