1752 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِسَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَيَقُولُ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ خَالَفَهُمَا أَبُو نُعَيْمٍ فَرَوَاهُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ ذَرٍّ عَنْ سَعِيدٍ
حضرت عبدالرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سبح اسم ربک الاعلیٰ) ، (قل یایھاالکفرون) اور (قل ھواللہ احد) کے ساتھ وتر پڑھتے تھے اور سلام کے بعد تین دفعہ بلند آواز سے [سبحان الملک القدوس] فرماتے تھے۔
ابونعیم نے ان دونوں (قاسم اور محمد بن عبید) کی مخالفت کی ہے اور اس روایت کو عن سفیان عن زبید عن ذر عن سعید کی سند سے بیان کیا ہے۔
مذکورہ دونوں احادیث (۱۷۵۱ اور ۱۷۵۲) میں سفیان ثوری کے شاگرد بالترتیب قاسم اور محمد بن عبید ہیں۔ ان دونوں نے زبید اور سعید کے درمیان ذرّ کا واسطہ ذکر نہیں کیا، مگر آئندہ حدیث میں ابونعیم نے یہ واسطہ ذکر کیا ہے۔ ابونعیم بھی سفیان کے شاگرد ہیں