فهرس الكتاب

الصفحة 1822 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

موت کی تمنا کرنا (کیسا ہے) ؟

1822 أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ح وَأَنْبَأَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مُتَمَنِّيًا الْمَوْتَ فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتْ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي مَا كَانَتْ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''دبخردار! تم میں سے کوئی شخص پیش آنے والی تکلیف کی بنا پر موت کی خواہش نہ کرے۔ اگر اسے لازمًا موت کی خواہش کرنی ہے تو یوں کہے: [اللھم! احینی ……… خیرالی] ''اے اللہ! جب تک زندہ رہنا میرے لیے بہتر ہے، مجھے زندہ رکھ اور جب موت میرے لیے بہتر ہو تو مجھے موت دے دے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت