فهرس الكتاب

الصفحة 1855 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

میت پرنوحہ کرنا

1855 أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ قَالَ أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ هُوَ ابْنُ زَاذَانَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِنِيَاحَةِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَرَأَيْتَ رَجُلًا مَاتَ بِخُرَاسَانَ وَنَاحَ أَهْلُهُ عَلَيْهِ هَاهُنَا أَكَانَ يُعَذَّبُ بِنِيَاحَةِ أَهْلِهِ قَالَ صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَبْتَ أَنْتَ

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میت کو گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا: آپ بتائیں ایک آدمی خراسان میں مر گیا اور اس کے گھر والوں نے اس پر یہاں نوحہ کیا، تو کیا اسے وہاں گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب ہوگا؟ (یعنی ایسے نہیں ہو سکتا) حضرت عمران نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے، تو ہی غلط کہتا ہے۔

تفصیل بحث دیکھیے حدیث نمبر ۱۸۵۱ اور اس کے فوائد و مسائل۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت