فهرس الكتاب

الصفحة 1911 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

جنازے کےلیے جلدی کرنا

1911 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ وَإِنْ تَكُ غَيْرَ ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، اور وہ اس روایت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے، کہ آپ نے فرمایا: ''جنازہ جلدی لے کر چلو۔ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے خیر کی طرف لے جا رہے ہو اور اگروہ نیک نہیں تو تم ایک شر کو اپنی گردنوں سے اتار رہے ہو۔''

جنازہ جلدی لے جانے کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں: (۱) جنازہ زیادہ دیر تک گھر میں نہ رکھو بلکہ تکفین و تجہیز میں جلدی کرو۔ (۲) جنازہ اٹھانے کے بعد تیز تیز چلو۔ بوجھ اٹھانے والا شخص فطری طور پر تیز تیز چلتا ہے، مگر اتنا تیز نہ چلے کہ میت کو جھٹکے لگیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت