فهرس الكتاب

الصفحة 1965 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

مقروض شخص کا جنازہ؟

1965 أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تُوُفِّيَ الْمُؤْمِنُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ سَأَلَ هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ فَإِنْ قَالُوا نَعَمْ صَلَّى عَلَيْهِ وَإِنْ قَالُوا لَا قَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی مسلمان فوت ہوتا اور اس کے ذمے قرض ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے: ''کیا یہ مرنے والا اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ مال چھوڑ گیا ہے؟'' اگر لوگ کہتے: جی ہاں، تو آپ اس کا جنازہ پڑھتے ورنہ آپ فرماتے: ''تم اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو۔'' پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فتوحات سے نوازا تو آپ نے فرمایا:''میں مسلمانوں کے لیے ان کے نفوس سے بھی زیادہ قریبی ہوں، لہٰذا جو شخص مقروض فوت ہو جائے تو اس کے قرض کی ادائیگی میرے ذمے ہوگی اور جو شخص مال چھوڑ کر فوت ہو تو وہ مال اس کے ورثاء کو ملے گا۔''

ابتدائی دور میں بھی صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی مقروض کے جنازے سے انکار فرماتے تھے (تاکہ لوگ قرض کی ادائیگی میں سستی نہ کریں) ، دوسرے لوگ جنازہ پڑھتے تھے۔ ایسی کوئی مثال نہیں کہ کویئ گناہ گار مسلمان بغیر جنازے کے دفن ہوا ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت