فهرس الكتاب

الصفحة 1999 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

جنازے پڑھنے والے کاثواب

1999 أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ تَبِعَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْ دَفْنِهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ مِنَ الْأَجْرِ، كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص جنازے کے ساتھ جائے، اس کا جنازہ پڑھے، پھر واپس آ جائے تو اس کے لیے ایک قیراط اجر ہے اور جو ساتھ جائے، جنازہ پڑھے، پھر بیٹھا رہے حتی کہ تدفین سے فراغت ہو تو اس کے لیے دو قیراط اجر ہے۔ ہر قیراط احد (پہاڑ) سے بڑا ہوگا۔''

''بیٹھا رہے'' مراد ٹھہرنا ہے، خواہ بیٹھے یا کھڑا رہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت