فهرس الكتاب

الصفحة 2011 من 5761

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

لحد اور شق

2011 أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ، عَنْ حَكَّامِ بْنِ سَلْمٍ الرَّازِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّحْدُ لَنَا، وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا»

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسروں کے لیے۔''

(۱) یہ روایت اگرچہ اس سند سے ضعیف ہے لیکن دیگر شواہد کی وجہ سے بعض حضرات کے نزدیک صحیح ہے اور یہی بات درست ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے جامع ترمذی میں ان شواہد کی تصریح فرمائی ہے۔ دیکھیے: (جامع الترمذي، حدیث: ۱۰۴۵) (۲) ''دوسروں کے لیے'' مسند احمد میں جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے اور ''شق اہل کتاب کے لیے ہے۔'' (مسسند أحمد: ۳۶۳/۴) لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ مسلمانوں کے لیے شق جائز نہیں کیونکہ بعض علاقوں میں لحد ممکن ہی نہیں، شق ہی بنانی پڑتی ہے۔ ممکن ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب بھی یہ ہو کہ بقیع الغرقد (جنت البقیع) کی زمین سخت ہے، لحد بن سکتی ہے، لہٰذا ہمارے لیے لحد بہتر ہے، ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کے لیے بھی دونوں آدمیوں (لحد اور شق والے) کو پیغام بھیجا گیا تھا۔ اتفاقًا لحد بنانے والے صحابی پہلے آگئے، اس لیے باتفاق صحابہ لحد بنائی گئی۔ (سنن ابن ماجہ، الجنائز، حدیث: ۱۵۵۷) ممکن ہے اہل کتاب کے ہاں شق کا رواج ہو۔ آپ نے امتیاز کے لیے مسلمانوں کو لحد بنانے کا مشورہ دیا ہو۔ (نیز دیکھیے، فوائد حدیث: ۲۰۰۹،۲۰۱۰)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت