2100 أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوْزَجَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَصُفِّدَتْ الشَّيَاطِينُ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''جب رمضان المبارک شروع ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور آگ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔''
(۱) ''جنت کے دروازیـ'' یعنی آسمانی جنت کے حقیقی دروازے کھول دیے جاتے ہیں، بطور استقبال کے، یہ بھی ممکن ہے کہ مراد وہ کام ہوں جو جنت میں جانے کا سبب ہیں، یعنی ان کاموں کا کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ واقعتا رمضان المبارک میں ہر شخص کے لیے نیکی کے کام بہت آسان ہو جاتے ہیں۔ پہلے معنی حقیقت کے زیادہ قریب ہیں۔ (۲) آگ کے دروازوں سے مراد بھی وہ دونوں معانی ہو سکتے ہیں جو اوپر بیان ہوئے۔ (۳) ''شیطان'' حقیقی شیطان یا گمراہی کے اسباب تقریبًا ختم ہو جاتے ہیں۔ رمضان المبارک میں عمومًا ہر طرف نیکی کا دور دورہ ہوتا ہے اور برائی کرنا مشکل مگر یہ سب کچھ ایمان والوں کے لیے ہے۔ ایمان نہ ہو تو رمضان اور غیر رمضان برابر ہیں۔ (۴) جنت اور جہنم کوئی خیالی چیزیں نہیں بلکہ ان کا وجود حقیقی ہے۔ ان کے دروازے بھی ہیں جو کھولے اور بند کیے جاتے ہیں۔