2127 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ عَجِبْتُ مِمَّنْ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَيْتُمْ الْهِلَالَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو ماہ رمضان شروع ہونے سے پہلے روزہ رکھتا ہے جبکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے: ''جب تم چاند دیکھو تو پھر روزہ رکھو اور جب اگلا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو۔ اگر چاند چھپ جائے (نظر نہ آئے) تو مہینے کی گنتی تیس دن پوری کرو۔''
''تعجب ہے'' یعنی رمضان المبارک کا چاند نظر آنے سے پہلے مشکوک (شعبان کے تیسویں) دن کا روزہ نہیں رکھنا چاہیے کہ یہ تکلف اور تشدد ہے۔ صحیح روایات میں اس دن کا روزہ رکھنا رسول اللہﷺ کی نافرمانی بتلایا گیا ہے۔ جن اہل علم نے احتیاطًا نفل روزہ رکھنے کی اجازت دی ہے شاید انہوں نے ان الفاظ کی سختی پر غور نہیں فرمایا۔ باقی رہی فرض اور نفل کی تفریق (کہ فرض منع ہے نفل جائز ہے) تو یہ بات حدیث سے ثابت نہیں ہوتی۔ جب اللہ تعالیٰ نے چاند دکھانے میں احتیاط نہیں فرمائی تو ہمیں خواہ مخواہ اس احتیاط کی کیا ضرورت ہے؟ رَضِینَا بِاللّٰہِ رَبًّا