فهرس الكتاب

الصفحة 2142 من 5761

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

اس بارے میں حضرت ابو سلمہ کی حدیث میں یحیٰ بن ابی کثیر کے شاگردوں کا اختلاف

2142 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثًا حَتَّى ذَكَرَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبیﷺ نے فرمایا: ''ہم امی لوگ ہیں۔ ہم حساب کتاب نہیں جانتے۔ مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہوتا ہے۔'' تین دفعہ ہاتھوں سے اشارہ فرمایا حتیٰ کہ انتیس ہوگئے۔

''امی لوگ'' یعنی ہم تو فطری علم سے آسنا ہیں جس میں غلطی کا امکان نہیں۔ ہم نے حساب کتاب نہیں پڑھا، لہٰذا ہم علم ریاضی، علم نجوم وہیئت وغیرہ سے واقف نہیں۔ نہ ہمارے ماہ وسال ہی کا حساب ان علوم سے ہے بلکہ ہم چاند کو دیکھ کر مہینے کا حساب لگاتے ہیں جو کبھی تیس کا ہوتا ہے، کبھی انتیس کا اور یہی حقیقی مہینہ ہے۔ بخلاف شمسی مہینے کے کہ وہ فرضی ہے۔ اس میں کوئی ظاہری علامت نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت