اللہ تعالیٰ کے فرمان:کھاؤ اور پیو حتی کہ تمہارے لیے سفید دھاری سیاہ دھاری سے واضح (روشن) ہو جائے۔''کا مطلب
2171 أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمْ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنْ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ قَالَ هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: {حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمْ الْاَسْوَدِ} ''حتیٰ کہ تمہارے لیے سفید دھاری سیاہ دھاری سے واضح ہو جائے۔'' کے بارے میں پوچھا۔ اپ نے فرمایا: ''اس سے رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی مراد ہے۔''
لفظ خَیْط کے معنی دھاگا دھاری کے ہیں مگر یہاں ظاہر معنی مراد نہیں جیسا کہ حضرت عدی رضی اللہ عنہ سمجھے، جب انہوں نے پوچھا تو آپ نے وضاحت فرما دی کہ مطلب یہ ہے کہ رات کے اندھیرے سے صبح کی روشنی نظر آنے لگے اور پھیل جائے۔ اسے طلوع فجر کہا جاتا ہے۔