فهرس الكتاب

الصفحة 2219 من 5761

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

اس حدیث میں ابو صالح کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر

2219 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ الزَّيَّاتُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَصْخَبْ فَإِنْ شَاتَمَهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''اللہ عزوجل نے فرمایا: انسان کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے کہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ ڈھال ہے۔ جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو نہ وہ کوئی شہوانی بات کرے اور نہ شور وغل کرے۔ اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ یا لڑائی کرے تو وہ کہہ دے: میں روزے دار ہوں۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ اچھی ہے۔''

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سعید بن مسیب نے بھی یہ روایت بیان کی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت