فهرس الكتاب

الصفحة 2242 من 5761

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

روزے کی فضیلت کے بارے میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں محمد بن یعقوب کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر

2242 أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ لَقِيَ عُثْمَانَ بِعَرَفَاتٍ فَخَلَا بِهِ فَحَدَّثَهُ وَأَنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ هَلْ لَكَ فِي فَتَاةٍ أُزَوِّجُكَهَا فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ عَلْقَمَةَ فَحَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَصُمْ فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ

حضرت علقمہ سے منقول ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عرفات میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ملے۔ حضرت عثمان انہیں علیحدہ لے گئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا اپ کو خواہش ہے کہ میں کسی نوجوان لڑکی سے آپ کی شادی کر دوں؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت علقمہ کو بھی بلا لیا اور ان سے بیان کیا کہ نبیﷺ نے فرمایا: ''تم میں سے جو شخص نکاح (کے اخراجات) کی طاقت رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ وہ نکاح کرے کیونکہ نکاح نظر کو نیچا اور شرم گاہ کو محفوظ رکھنے کی چیز ہے۔ اور جو طاقت نہ رکھے، وہ روزے رکھے کیونکہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے۔''

(۱) یہ واقعہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کا ہے۔ چونکہ اس وقت حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو نکاح کی ضرورت نہ تھی، لہٰذا پیش کش قبول نہ فرمائی بلکہ علقمہ کو بلا لیا کیونکہ یہ کوئی راز کی بات نہ تھی اور حدیث بیان فرمائی۔ (۲) نکاح اس شخص کے لیے ضروری ہے جو اس کی ضرورت محسوس کرتا ہے، جو ضرورت محسوس نہ کرتا ہو، اس کے لیے نکاح ضروری نہیں، جیسے بوڑھا شخص۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت