فهرس الكتاب

الصفحة 2266 من 5761

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

اس شخص کے نام کا ذکر(جو محمد بن عبد الرحمٰن اور حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ہے)

2266 أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبدِ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ أَدْنِيَا فَكُلَا فَقَالَا إِنَّا صَائِمَانِ فَقَالَ ارْحَلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کے پاس مَرُّ الظَّہران مقام میں کھانا لایا گیا۔ آپ نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ''قریب آؤ اور کھاؤ۔'' ان دونوں نے کہا: ہم روزے سے ہیں۔ آپ نے دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ''اپنے ان دو محترم ساتھیوں کے لیے سواریاں تم تیار کرنا اور ان کے دوسرے کام بھی تم کرنا۔''

مذکورہ حدیث کو محقق کتاب نے سندًا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس پر سیر حاصل بحث کی ہے، جس سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔ واللہ اعلم، نیز شیخ البانی رحمہ اللہ نے اگلی دونوں روایتوں کو بھی صحیح قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے: (ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائی: ۲۱/ ۱۶۱۔۱۶۳، وسلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: ۱/ ۱۶۸۔ ۱۷۰، رقم: ۸۵ و صحیح سنن النسائی: ۲/ ۱۳۲، ۱۳۳، رقم: ۲۲۶۳-۲۲۶۵)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت