فهرس الكتاب

الصفحة 2271 من 5761

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

مسافرکو(وقتی طور پر)روزہ معاف ہونے کا ذکر اور اس بارے میں حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کی حدیث(کے بیان)میں اوزاعی کے شاگردوں کا اختلاف

2271 أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَاجِرِ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا ذَهَبْتُ لِأَخْرُجَ قَالَ انْتَظِرْ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ قُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ تَعَالَ أُخْبِرْكَ عَنْ الْمُسَافِرِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ

حضرت ابو امیہ ضمری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر سے رسول اللہﷺ کے پاس واپس آیا۔ میں نے آپ کو سلام عرض کیا۔ جب میں اٹھنے لگا تو آپ نے فرمایا: ''اے ابو امیہ! کھانا آنے تک ٹھہرو۔'' میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں تو روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا۔ ''ادھر آؤ، میں تمہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزہ اور نصف نماز معاف کر دی ہے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت