فهرس الكتاب
2325 أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَارَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَوْرَةً قَالَ أَعِنْدَكِ شَيْءٌ قَالَتْ لَيْسَ عِنْدِي شَيْءٌ قَالَ فَأَنَا صَائِمٌ قَالَتْ ثُمَّ دَارَ عَلَيَّ الثَّانِيَةَ وَقَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَجِئْتُ بِهِ فَأَكَلَ فَعَجِبْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَخَلْتَ عَلَيَّ وَأَنْتَ صَائِمٌ ثُمَّ أَكَلْتَ حَيْسًا قَالَ نَعَمْ يَا عَائِشَةُ إِنَّمَا مَنْزِلَةُ مَنْ صَامَ فِي غَيْرِ رَمَضَانَ أَوْ غَيْرِ قَضَاءِ رَمَضَانَ أَوْ فِي التَّطَوُّعِ بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ أَخْرَجَ صَدَقَةَ مَالِهِ فَجَادَ مِنْهَا بِمَا شَاءَ فَأَمْضَاهُ وَبَخِلَ مِنْهَا بِمَا بَقِيَ فَأَمْسَكَهُ
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہﷺ نے میرے پاس چکر لگایا اور فرمایا: ''تمہارے پاس کوئی کھانے کی چیز ہے؟'' میں نے عرض کیا: میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: ''پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔'' پھر (کسی دن) دوبارہ تشریف لائے۔ اتفاقًا ہمارے پاس حیس کا تحفہ آیا تھا۔ میں آپ کے پاس لائی تو آپ نے کھا لیا۔ مجھے اس پر تعجب ہوا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ تشریف لائے تو آپ کا روزہ تھا، پھر آپ نے حیس کھا لیا؟ آپ نے فرمایا: ''عائشہ! ہاں۔ رمضان یا قضائے رمضان کے علاوہ نفل روزے رکھنے والے کی مثال تو اس شخص کی طرح ہے جس نے اپنے مال کا صدقہ نکالا تو جس قدر چاہا خرچ کر دیا اور اس کا ثواب حاصل کرل یا اور جتنا چاہا کنجوسی کرتے ہوئے رکھ لیا۔''