نبیﷺ'آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں'کے روزے کا بیان اور اس بارے میں وارد روایت کے ناقلین کےاختلاف کا ذکر
2348 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا غَيْرَ رَمَضَانَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ
حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ (بسا اوقات نفل) روزے مسلسل رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے تھے کہ آپ چھوڑیں گے نہیں اور پھر چھوڑنا شروع فرماتے حتیٰ کہ ہم کہتے: آپ رکھیں گے نہیں، جب سے آپ مدینہ تشریف لائے آپ نے کبھی بھی رمضان المبارک کے علاوہ ایک ماہ مسلسل روزے نہیں رکھے۔