نبیﷺ'آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں'کے روزے کا بیان اور اس بارے میں وارد روایت کے ناقلین کےاختلاف کا ذکر
2351 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ وَمَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا رَمَضَانَ
حضرت عبداللہ بن شقیق سے روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ سے نبیﷺ کے (نفل) روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: کبھی آپ اس قدر روزے رکھتے کہ ہم کہتے: آپ روزے رکھتے ہی رہیں گے اور کبھی اس قدر ناغے فرماتے کہ ہم کہتے: آپ نے روزے مستقلًا چھوڑ دیئے ہیں۔ اور آپ جب سے مدینہ منورہ تشریف لائے، آپ نے رمضان المبارک کے علاوہ کسی بھی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے۔ ﷺ