فهرس الكتاب

الصفحة 2419 من 5761

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

ہر ماہ تین روزے کیسے رکھے؟ اس بارے میں حدیث بیان کرنے والوں کے اختلاف کا ذکر

2419 أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ امْرَأَتِهِ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ تِسْعًا مِنْ ذِي الْحِجَّةِ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنْ الشَّهْرِ وَخَمِيسَيْنِ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کے نو دن، عاشوراء کے دن اور ہر مہینے سے تین دن (یعنی پہلا سوموار اور اس کے بعد والی دو جمعراتیں) روزہ رکھتے تھے۔

''ذوالحجہ کے نو دن۔'' حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحیح مسلم میں روایت ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دنوں کبھی روزے سے نہیں دیکھا۔ (صحیح مسلم، الاعتکاف، حدیث: ۱۱۷۶) مگر اسے تعارض کے بجائے عدم علم پر محمول کیا جائے گا، یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے علم کی نفی کی ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہ رکھتے تھے۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو روزے سے دیکھا تو روزہ بیان کردیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت