فهرس الكتاب

الصفحة 2422 من 5761

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

ہر ماہ تین روزے کیسے رکھے؟ اس بارے میں حدیث بیان کرنے والوں کے اختلاف کا ذکر

2422 أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ وَأَيَّامُ الْبِيضِ صَبِيحَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ہر مہینے تین روزے رکھنا (ثواب کے لحاظ سے) زمانے بھر کے روزوں کے برابر ہے۔ اور ایام بیض (چمکتی راتوں والے دن) تیرہ، چودہ اور پندرہ ہیں۔''

ان تین راتوں میں چاند پورا ہوتا ہے اور ساری رات رہتا ہے، اس لیے ان کو چمکتی راتیں کہا۔ مقصد مہینے میں تین روزے رکھنا ہے۔ ان دنوں میں رکھے یا سوموار اور جمعرات کے لحاظ سے یا جیسے اتفاق ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت