فهرس الكتاب
2427 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ عَلَيْكَ بِصِيَامِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ لَيْسَ مِنْ حَدِيثِ بَيَانٍ وَلَعَلَّ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا اثْنَانِ فَسَقَطَ الْأَلِفُ فَصَارَ بَيَانٌ
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: (چاند کی) ''تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھا کر۔''
امام ابوعبدالرحمن (نسائی) k بیان کرتے ہیں کہ یہ غلطی ہے۔ یہ حدیث ''بیان کی'' کی نہیں ہے، ہو سکتا ہے کہ حضرت سفیان نے حَدَّثَنَا اِثْنَانِ کہا ہو، الف گر گیا اور کسی راوی نے غلطی سے اسے ''بیان'' پڑھ لیا۔
مذکورہ حدیث کی سند میں حضرت سفیان کا استاد ''بیان'' کہا گیا ہے لیکن یہ درست نہیں ہے آئندہ حدیث میں صراحت ہے کہ سفیان نے کہا: ''مجھے دو آدمیوں نے یہ روایت بیان کی۔'' دو کو عربی ـ میں اِثْنَانِ کہتے ہیں، گویا یہاں بھی اثنان تھا، غلطی سے بیان پڑھ لیا گیا۔ واللہ اعلم