فهرس الكتاب
2455 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَعَثَنِي إِلَى الْيَمَنِ أَنْ لَا آخُذَ مِنْ الْبَقَرِ شَيْئًا حَتَّى تَبْلُغَ ثَلَاثِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ ثَلَاثِينَ فَفِيهَا عِجْلٌ تَابِعٌ جَذَعٌ أَوْ جَذَعَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ فَفِيهَا بَقَرَةٌ مُسِنَّةٌ
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے جب مجھے یمن بھیجا تو مجھے حکم دیا کہ میں گایوں سے زکاۃ نہ لوں حتیٰ کہ وہ تیس ہو جائیں جب تیس ہو جائیں تو چالیس تک ان میں سے جذعۃ (دوسرے سال میں داخل) نوجوان بچھڑا یا بچھڑی زکاۃ ہوگی۔ اور جب وہ چالیس ہوجائیں تو ان میں دو سالہ (دو دانتا) گائے (مذکر یا مؤنث) زکاۃ ہوگی۔
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی مذکورہ چاروں احادیث کو مہقق کتاب نے سندًا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین میں سے بعض نے حسن اور بعض نے صحیح قرار دیا ہے اور انھوں نے اس کے شواہد بھی بیان کیے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت سندًا ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل اور قابل حجت ہے۔ مذکو رہ روایات کی اسنادی بحث اور ان میں مذکورہ مسئلے کی تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائی: ۲۲/ ۱۰۸-۱۱۷، والموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الامام احمد: ۷/ ۲۱-۲۳، و ۳۶/ ۳۳۹-۲۳ وارواء الغلیل: ۳/ ۲۶۸-۲۷۱، رقم: ۷۹۵)