فهرس الكتاب

الصفحة 2474 من 5761

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

غلاموں کی زکاۃ

2474 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ خُثَيْمِ بْنِ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ فِي غُلَامِهِ وَلَا فِي فَرَسِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مسلمان پر اس کے غلام اور گھوڑے میں زکاۃ نہیں۔''

غلام کے بارے میں تو احناف بھی دیگر جمہور اہل علم کے ساتھ متفق ہیں کہ خدمت والے غلام میں زکاۃ نہیں کیونکہ کسی بھی ذاتی ضروریات کی چیز میں زکاۃ نہیں ہے، البتہ تجارت کے لیے رکھے گئے غلاموں میں زکاۃ ہے کیونکہ وہ تجارتی مال ہیں۔ گھوڑے میں بھی یہی ضابطہ لاگو ہوتا ہے، مگر احناف نے بغیر کسی معقول وجہ کے گھوڑے کے حکم بدل دیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت