فهرس الكتاب

الصفحة 2478 من 5761

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

چاندی کی زکاۃ

2478 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ وَكَانَا ثِقَةً عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ وَكَانَا ثِقَةً عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنْ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنْ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ''پانچ اوقیوں (یعنی (۲۰۰ درہم سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں اور نہ پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ ہے۔ اسی طرح پانچ وسق (یعنی ۱۶ من سے کم غلے میں بھی زکاۃ نہیں۔''

یہاں بھی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے حدیث کے آخری ٹکڑے کو تسلیم نہیں کیا۔ ان کے قول کے مطابق غلہ تھوڑا پیدا ہوا ہو یا زیادہ (حتیٰ کہ ایک صاع بھی ہو تو اس میں بھی عشر لاگو ہوگا، مگر صاف نظر آرہا ہے کہ یہ صریح حدیث کے خلاف ہے، اسی لیے ان کے شاگردان رشید نے بھی ان کی اس رائے کی تائید نہیں کی۔ والحمد للہ علی ذلک

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت