فهرس الكتاب

الصفحة 2495 من 5761

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

اللہ کے فرمان:{ وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیثَ مِنْہُ تُنْفِقُونَ }کی تفسیر

2495 أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْخَضْرَمِيِّ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِيَدِهِ عَصًا وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ قِنْوَ حَشَفٍ فَجَعَلَ يَطْعَنُ فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ فَقَالَ لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْ هَذَا إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ حَشَفًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہﷺ تشریف لائے، آپ کے ہاتھ میں عصا تھا۔ کوئی شخص (مسجد میں بطور صدقہ) ردی قسم کی کھجور کا ایک خوشہ لٹکا گیا تھا۔ آپ اس خوشے پر اپنی لاٹھی مارنے لگے اور فرمایا: ''اگر اس صدقے والا چاہتا تو اس سے اچھی کھجور کا صدقہ کر سکتا تھا۔ بلا شبہ اس قسم کا صدقہ کرنے والا قیامت کے دن ردی کھجوریں ہی کھائے گا۔''

(۱) یہ صدقہ نفل تھا کیونکہ فرض عشر تو حکومتی عمال خود وصول کرتے تھے۔ (۲) ''ردی کھجوریں ہی کھائے گا۔'' یعنی اسے ردی کھجوروں ہی کا ثواب ملے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ سے دھوکا نہیں کیا جا سکتا۔ یا یہ کہ اسے وہاں کھانے کو ردی کھجوریں ہی ملیں۔ دوسرا مفہوم ظاہر الفاظ کے زیادہ قریب ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت