فهرس الكتاب

الصفحة 2506 من 5761

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

زکاۃ رمضان مسلمانوں پر فرض ہے 'ذمیوں پرنہیں

2506 أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى الْحُرِّ وَالْعَبْدِ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى وَالصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے صدقہ فطر ہر چھوٹے، بڑے، مذکر، مونث، آزاد اور غلام مسلمان پر کھجور اور جو سے ایک صاع مقرر فرمایا ہے اور حکم دیا ہے کہ اس کی ادائیگی نماز عید کے لیے جانے سے پہلے کی جائے۔

(۱) صدقہ فطر کی ادائیگی نماز عید فطر سے قبل واجب ہے نماز کے بعد ادا کیا ہوا صدقہ، صدقہ فطر نہیں ہوگا اور تاخیر کرنے والا شخص اس واجب کی ادائیگی سے محروم رہے گا۔ سنن ابوداؤد میں حدیث ہے کہ جس نے صدقہ فطر عید سے پہلے ادا کیا تو وہ مقبول ہے اور اگر عید کے بعد ادا کیا گیا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ متصور ہوگا۔ دیکھیے (سنن ابی داؤد، الزکاۃ، حدیث: ۱۶۰۹) (۲) صدقۃ الفطر وقت سے پہلے بھی دیا جا سکتا ہے کیونکہ مقصد تو فقیر کی حاجت برآری ہے، خصوصًا اگر صدقۃ الفطر اجتماعی طور پر جمع کر کے تقسیم کرنا مقصود ہو تو لازمًا وقت سے پہلے ہی اکٹھا کیا جائے گا۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ بعض صحابہ سے چند دن قبل صدقۃ الفطر جمع کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت