فهرس الكتاب

الصفحة 2522 من 5761

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

صاع کتنا ہوتا ہے؟

2522 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مُوسَى ح قَالَ وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ ابْنُ بَزِيعٍ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہﷺ نے حکم دیا کہ صدقۃ الفطر عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔

(امام نسائی رحمہ اللہ کے استاد) محمد بن عبداللہ بن بزیع نے (اپنی روایت میں بصدقۃ الفطر کے بجائے) بزکاۃ الفطر کے الفاظ بیان کیے ہیں۔

تفصیل کے لیے دیکھیے روایت نمبر ۲۵۰۶۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت