2530 أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ الْحُسَيْنِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِالصَّدَقَةِ فَمَا يَجِدُ أَحَدُنَا شَيْئًا يَتَصَدَّقُ بِهِ حَتَّى يَنْطَلِقَ إِلَى السُّوقِ فَيَحْمِلَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَجِيءَ بِالْمُدِّ فَيُعْطِيَهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُ الْيَوْمَ رَجُلًا لَهُ مِائَةُ أَلْفٍ مَا كَانَ لَهُ يَوْمَئِذٍ دِرْهَمٌ
حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ہمیں صدقہ کرنے کا حکم فرمایا کرتے تھے۔ ہم میں سے کچھ لوگ کوئی چیز نہ پاتے تھے کہ صدقہ کریں تو وہ بازار جاتے اور اپنی پیٹھ پر بوجھ اٹھاتے (بار برداری کا کام کرتے) او ر ایک مد لے کر آتے اور اللہ کے رسولﷺ کو دے دیتے، لیکن آج میں ایسے لوگ دیکھتا ہوں جن کے پاس لاکھوں درہم ہیں مگر ان دنوں ان کے پاس ایک درہم بھی نہیں ہوتا تھا۔
یقینا اس دور کا ایک درہم ثواب کے لحاظ سے آج کے ایک لاکھ درہم سے بڑھ جائے گا۔ واللہ اعلم