2552 أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ حَجَّاجٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا جَاءَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَيْسَ لِي شَيْءٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ فِي أَنْ أَرْضَخَ مِمَّا يُدْخِلُ عَلَيَّ فَقَالَ ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ وَلَا تُوكِي فَيُوكِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبیﷺ کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میرے پاس ذاتی مال تو کوئی نہیں مگر جو (میرے خاوند) حضرت زبیر رضی اللہ عنہ مجھے لا کر دیتے ہیں، کیا مجھے گناہ ہوگا اگر میں اس سے عطیہ وغیرہ دوں؟ آپ نے فرمایا: ''جتنی گنجائش ہو، عطیے دے اور باندھ باندھ کر نہ رکھ ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تجھ پر باندھ دے گا۔''
(۱) باندھ کر رکھنے سے مراد کنجوسی ہے کہ اگر تو اللہ تعالیٰ کے راستے میں نہ دے گی تو اللہ تعالیٰ بھی تجھ سے رزق روک لے گا۔ اللہ تعالیٰ کے لیے باندھنے کا ذکر تشاکل (علم معانی کی ایک اصطلاح) کے طور پر ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ (۲) اس روایت میں عطیات سے مراد وہ چھوٹے چھوٹے عطیات ہیں جن کی عرفًا ہر گھر میں اجازت ہوتی ہے۔ اگر زیادہ مال دینا ہو تو خاوند کی اجازت ضروری ہے کیونکہ وہ مال کا اصل مالک ہے۔ اگرچہ ہر چیز اللہ ہی کی ہے۔