فهرس الكتاب

الصفحة 2556 من 5761

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

دوسروں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان

2556 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ حَارِثَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَصَدَّقُوا فَإِنَّهُ سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ فَيَقُولُ الَّذِي يُعْطَاهَا لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالْأَمْسِ قَبِلْتُهَا فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا

حضرت حارثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا: ''صدقہ کرو اس لیے کہ ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ آدمی صدقہ لے کر چلے گا۔ (کہ کسی کو دے) مگر جسے وہ صدقہ دیا جائے گا، وہ کہے گا: اگر تو کل لے آتا تو میں قبول کر لیتا، آج نہیں۔''

(۱) ''ایسا زمانہ'' واقعتا رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد ایسا زمانہ آیا۔ قرب قیامت بھی ایسی صورت حال پیدا ہوجائے گی کہ دولت عام ہو جائے گی۔ صدقہ تو ایک طرف رہا، کوئی دولت (سونا وغیرہ) نہ اٹھائے گا۔ دیکھیے: (صحیح مسلم، الزکاۃ، حدیث: ۱۰۱۳) (۲) ''کل'' ضروری نہیں حقیقتًا گزشتہ کل ہی مراد ہو، بلکہ مراد اس سے پہلے کا زمانہ بھی ہو سکتا ہے، چاہے وہ سال دو سال یا اس سے کم و بیش ہی ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت