فهرس الكتاب

الصفحة 2590 من 5761

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

مانگنے سے پرہیز کرنا

2590 أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْنٌ قَالَ أَنْبَأَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا أَعْطَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَضْلِهِ فَيَسْأَلَهُ أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے ایک شخص اپنی رسی پکڑے اور اپنی پشت پر لکڑیوں کا گٹھا لاد کر لائے (اور اسے بیچ کر گزارا کرے) اس بات سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے آدمی کے پاس جائے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے نواز رکھا ہے اور اس سے جا کر مانگے، پھر وہ اسے دے یا نہ دے۔''

''اپنے فضل'' قرآن وحدیث میں عمومًا فضل سے مراد دنیوی رزق ہوتا ہے اور رحمت سے مراد اخروی ثواب۔ کسی آدمی سے دنیوی چیز ہی مانگی جا سکتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت