فهرس الكتاب

الصفحة 2598 من 5761

کتاب: زکاۃ سے متعلق احکام و مسائل

جب کسی شخص کے پاس(چالیس)درہم تو نہ ہوں مگر اتنی مالیت کی اور چیز ہو تو؟

2598 أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''زکاۃ وصدقات کسی مال دار شخص یا کسی طاقت ور تندرست شخص کے لیے جائز نہیں۔''

طاقت ور سے مراد وہ ہے جو کمائی کر سکے، نہ کہ پہلوان۔ اور تندرست سے مراد ہے کہ اس کے ہاتھ پاؤں صحیح ہوں، معذور نہ ہو، البتہ ایسا شخص اگر باوجود محنت کے فقیر ہو تو وہ مستحق ہوگا کیونکہ رسول اللہﷺ کا مقصد یہ ہے کہ زکاۃ نکھٹوؤں کے لیے جائز نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت