فهرس الكتاب

الصفحة 2695 من 5761

کتاب: مواقیت کا بیان

احرام باندھتے وقت خوشبو لگانا مباح ہے

2695 أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ قَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَقَدْ كَانَ يُرَى وَبِيصُ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ دوران احرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ مبارک میں خوشبو کی چمک صاف نظر آتی تھی۔

معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو کے اثرات احرام کے دوران میں بھی محسوس ہوتے تھے اگرچہ وہ احرام سے قبل لگائی جاتی تھی۔ یہی بات صحیح ہے۔ مگر بعض حنفی اور مالکی حضرات نے اسے عوام الناس کے لیے جائز نہیں سمجھا کیونکہ خوشبو بھی جماع کے اسباب میں سے ہے اور احرام کے دوران میں جماع کے اسباب بھی منع ہیں۔ مگر شاید وہ اس بات کو نظر انداز کر گئے کہ یہ خوشبو احرام سے قبل کی ہے نہ کہ دوران احرام لگائی گئی۔ خوبصورتی بھی تو جماع کے اسباب سے ہے، تو کیا احرام کے بعد خوبصورتی کا باقی رہنا گنا ہے؟ ہاں احرام کے کے دوران میں زیب وزینت منع ہے، اسی طرح یہ مسئلہ ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت