فهرس الكتاب

الصفحة 2705 من 5761

کتاب: مواقیت کا بیان

خوشبو لگانے کی جگہ

2705 أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ بِشْرٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ الطِّيبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ فَقَالَ لَأَنْ أَطَّلِيَ بِالْقَطِرَانِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَقَدْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَطُوفُ فِي نِسَائِهِ ثُمَّ يُصْبِحُ يَنْضَحُ طِيبًا

حضرت محمد بن منتشر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے احرام باندھتے وقت خوشبو لگانے کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: اس سے تو اچھا یہ ہے کہ میں گندھک مل لوں۔ میں نے یہ بات حضرت عائشہؓ سے ذکر کی تو وہ فرمانے لگیں: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن (ابن عمر رضی اللہ عنہ ) پر رحم فرمائے! میں رسول اللہﷺ کو خوشبو لگایا کرتی تھی، پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس جاتے، پھر صبح ہوتی جبکہ آپ سے خوشبو کی مہک آرہی ہوتی تھی (اور آپ صبح کو احرام باندھتے) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت