فهرس الكتاب

الصفحة 272 من 5761

کتاب: کون سی چیزیں غسل واجب کرتی ہیں اور کون سی نہیں؟

حیض والی عورت سے کوئی کام کروانا

272 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنْ الْمَسْجِدِ قَالَتْ إِنِّي حَائِضٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَتْ حَيْضَتُكِ فِي يَدِكِ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مجھے مسجد سے چٹائی پکڑا دو۔'' میں نے کہا: میں حالت حیض میں ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تمھارا حیض تمھارے ہاتھ میں نہیں ہے۔''

حیض اور جنابت کی حالت میں کسی اشد ضرورت کے تحت مسجد میں داخل ہوا جا سکتا ہے، البتہ اس حالت میں مسجد میں ٹھہرنا نادرست نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ''میں حائضہ عورت اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال نہیں کرتا۔'' (سنن أبي داود، الطھارۃ، حدیث: ۲۳۲)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت