کتاب: مواقیت کا بیان
2737 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبِي قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَنْهَاكُمْ عَنْ الْمُتْعَةِ وَإِنَّهَا لَفِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَقَدْ فَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي الْعُمْرَةَ فِي الْحَجِّ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ اللہ کی قسم! میں تمھیں تمتع سے روکتا ہوں، حالانکہ میں جانتا ہوں کہ اس کا ذکر اللہ کا کتاب میں ہے اور اللہ کے رسولﷺ نے یہ کیا ہے، یعنی حج سے پہلے عمرہ کرنا۔
''یعنی حج سے پہلے عمرہ کرنا۔'' یہ وضاحت اس لیے کی گئی کہ لفظ تمتع کے دوسرے معنی عورتوں سے متعہ کرنا ہے اور وہ حرام ہے۔ کوئی شخص وہ معنی مراد لے کر کہیں اسے جائز نہ سمجھ لے یا جواز کی نسبت حضرت عمر یا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم کی طرف نہ کر دے جیسا کہ بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی۔