فهرس الكتاب
کتاب: مواقیت کا بیان
2763 أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَفَسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ كَيْفَ تَفْعَلُ فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتَسْتَثْفِرَ بِثَوْبِهَا وَتُهِلَّ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت عمیسؓ نے (حجۃ الوداع کے موقع پر ذوالحلیفہ میں) محمد بن ابی بکر کو جنم دیا تو انھوں نے رسول اللہﷺ کو پیغام بھیجا، وہ آپ سے پوچھ رہی تھیں کہ اب کیا کرے؟ آپ نے انھیں حکم دیا کہ غسل کر کے لنگوٹ باندھ لے اور لبیک کہے (یعنی احرام شروع کر دے۔)
یہ فرض غسل نہیں۔ اگر کوئی مجبوری ہو اور غسل نہ کیا جائے تو بھی گزارا ہو جائے گا، تاہم بلا وجہ نہ چھوڑا جائے۔