فهرس الكتاب

الصفحة 2768 من 5761

کتاب: مواقیت کا بیان

شرط لگاتے وقت کیا کہے؟

2768 أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا وَعِكْرِمَةَ يُخْبِرَانِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أُهِلَّ قَالَ أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي إِنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ضباعہ بنت زبیرؓ رسول اللہﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! میں بیمار عورت ہوں اور حج کا ارادہ رکھتی ہوں تو آپ مجھے کس طرح احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ''احرام باندھ لو اور شرط لگا لو کہ میرے حلال ہونے کی جگہ وہ ہوگی جہاں (اے اللہ!) تو مجھے روک لے گا۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت